عاشقی کے ڈیرے پر
عاشقی کے ڈیرے پر
اے بادِ صبا، باسِ یار سے ہم کو آشنا مت کر
کوچۂ یار کی یادوں سے جُڑی ہیں سانسیں ہماری
جو چھوٹ کر بھی نہیں چھوٹے
جو ٹوٹ کر بھی نہیں ٹوٹے
عجب چاہت کی تراوت ہے
خشک لبوں پہ ہمارے
نگین ہیں آنکھیں تمہاری
کسی خواب سے ہوئی بیداری
کٹ گئے کوئے یار میں ہم
نظر منظرِ معشوق سے مر گئے ہم
قلق قمع ہو گیا ہے اب کوئی آس نہیں
شور و فغاں ہے بس اور کسی اپنے کی آواز نہیں
بازگشت ہے اُس کے قدموں کی اور ہم ہیں
کوئی نہ سن پائے گا من کی چیخ و پکار ہماری
عشق کی تختی دل کی اوڑھ لے کر چل دیے ہم
پتا جس کا کسی دربدر کے نام نہیں
Comments
Post a Comment