Translating a portion of the historical document to Urdu (The Will of Quaid E Azam)

All my residuary estate including the corpus that may fall after the lapse of life interest or otherwise to be divided into three parts - and I bequeath one part to Aligarh University - one part to Islamia College Peshawar and one part to Sindh Madrassa of Karachi ... Quaid-e-Azam s Will, Bombay, May 30, 1939 نظرثانی شدہ اردو ترجمہ وصیتِ قائد اعظم (بمبئی، ۳۰ مئی ۱۹۳۹) کا اقتباس میری تمام جائیداد جو وصیت کے تحت باقی رہے — بشمول اصل سرمایہ (corpus) جو کسی شخص کے حقِ استعمال حیاتی (life interest) کے ختم ہونے کے بعد یا کسی اور صورت میں حاصل ہو — تین برابر حصوں میں تقسیم کی جائے گی۔ ایک حصہ علی گڑھ یونیورسٹی کو، دوسرا حصہ اسلامیا کالج پشاور کو اور تیسرا حصہ سندھ مدرسہ کراچی کو میں وصیت کرتا ہوں۔ --- ترجمے میں کلیدی اصلاحات 1. ”حقِ استعمال حیاتی“ بجائے ”استعمال کی زندگی“ · ”Life interest“ ایک معروف قانونی اصطلاح ہے جس کا اردو میں متبادل ”حقِ استعمال حیاتی“ یا ”حقِ انتفاع حیاتی“ ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ کسی شخص کو صرف جائیداد کے استعمال یا آمدنی کا حق ہے، ملکیت نہیں۔ 2. ”ختم ہونے کے بعد“ کی جگہ ”ختم ہونے پر“ یا ”ختم ہوجانے کے بعد“ · پہلے ترجمے میں ”مدت ختم ہونے کے بعد“ کہہ کر طول دیا گیا تھا۔ اب اختصار اور وضاحت دونوں مل گئے ہیں۔ 3. ”یا کسی اور صورت میں“ کا اضافہ برقرار · ”or otherwise“ کو ”یا کسی اور صورت میں“ رکھا گیا ہے، جو قانونی عبارت میں عام ہے اور دوسرے ممکنہ طریقوں کو شامل کرتا ہے۔ 4. قوسین میں اصل انگریزی اصطلاح کا اضافہ · چونکہ یہ قانونی ترجمہ ہے، اصل اصطلاح (life interest) کو قوسین میں دینے سے وضاحت بڑھ جاتی ہے۔ یہ طریقہ پیشہ ورانہ ترجمے میں عام ہے۔ --- کیوٹو تناظر میں اس اصلاح کی اہمیت پچھلے ترجمے میں aidagara (بیچ کا مقام) کی گنجائش تو تھی، لیکن لفظی الجھاؤ نے اس بیچ کو قاری کے لیے پیچیدہ بنا دیا تھا۔ اس اصلاح کے بعد ترجمہ دونوں طرف کی ضرورتوں کو بہتر طریقے سے پورا کرتا ہے: · باشو (basho) کی تشکیل: وصیت کا متن اب ایک ایسا مقام بن گیا ہے جہاں قانونی درستگی اور عام فہمی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ · آئیڈاگارا (aidagara) میں بہتری: انگریزی “life interest” اور اردو “حقِ استعمال حیاتی” کے درمیان تعلق اب زیادہ شفاف ہے۔ · زیتائی مو (zettai mu) کا عمل: مترجم کو پہلے ترجمے کی اپنی عبارت کو “مٹانا” پڑا (یعنی خود سے لگاؤ ختم کرنا) تاکہ ایک بہتر بیچ پیدا ہو سکے۔ --- قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی وصیت میں یہ پیغام دیا کہ ان کی جائیداد کا جو حصہ مخصوص ورثاء یا دوسری ذاتی وصیتوں کے بعد باقی رہے، وہ تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ یہ تینوں حصے ان تین تعلیمی اداروں کو ملنے چاہئیں جو برصغیر کے مسلمانوں کی فکری اور قومی بیداری کی علامت ہیں: علی گڑھ یونیورسٹی، اسلامیا کالج پشاور، اور سندھ مدرسہ کراچی۔ قائد نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی شخص کو جائیداد سے آمدنی یا استعمال کا حقِ حیات دیا گیا ہو تو اس کی وفات کے بعد جو اصل سرمایہ (corpus) باقی رہے گا وہ بھی انہی اداروں میں شامل ہوگا۔ اس طرح ان کی وصیت محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ تعلیم، قومی ترقی اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے ایک سانچہ ہے۔

Comments

Popular Posts